کاروبار

فکر وخیالات

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

سعودی عرب میں کیوں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے خاندانی نظام،طلاق کی شرح جان کر اڑجائیں گے ہوش

Administrators

ہماری دنیابیورو
ریاض،18جنوری : سعودی عرب میں گزشتہ کچھ سالوں سے خواتین کو کئی شعبوں میں اہم شعبوں میں اہم مقام دیا گیا ہے اور ان کے حقوق کا بھی خیال رکھنے کیلئے سعودی حکومت طرح طرح کے اقدامات بھی اٹھارہی ہے۔ لیکن سعودی معاشرے پرایک منفی رجحان پڑنے کی خبریں بھی آرہی ہیں۔گزشتہ دو تین سالوں سے سعودی عرب کے معاشرے میں طلاق کی شرح حیرت انگیز طور پربہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔ ایک سعودی اخبار’ الوطن‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب میں ہر سال ہزاروںجوڑے طلاق لے رہے ہیں، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہسعودی عرب میں خاندانی نظام ٹ±وٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے جس کے معاشرے پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
اخبارالوطن کی رپورٹ مطابق سعودی وزارت انصاف نے بتایا ہے کہ سعودی عرب میں ہردن اوسطاً 287 جوڑوں کی طلاقیں ہو رہی ہیں۔رواں ہجری سال کے ربیع الثانی کے مہینے میں ہی پورے سعودی عرب میں 4276 جوڑوں نے طلاق کی وجہ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے علیحدگی اختیار کر لی۔ طلاق کے معاملے میں ریاض اور مکہ مکرمہ ریجن سب سے آگے ہیں، جہاں پر طلاق کا تناسب مملکت بھر میں ہونے والی طلاق کا 47 فیصد بنتا ہے۔ ربیع الثانی کے مہینے میں سب سے زیادہ طلاقیں ریاض ریجن میں ریکارڈ کی گئیں جن کی گنتی 902 بتائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد مکہ مکرمہ کا نمبر آتا ہے جہاں پر اس مہینے کے دوران 808 طلاقوں کا اندراج ہوا۔ تیسرے نمبر پر الشرقیہ ریجن میں 575 طلاقیں ہوئیں۔ جبکہ سب سے کم طلاقیں باحہ میں ریکارڈ کی گئیں جن کی گنتی صرف 48 تھی۔ جبکہ ربیع الثانی کے مہینے میں مملکت میں درج کیے جانے والے 88فیصد نکاح سعودیوں کے اور باقی غیر ملکیوں کے تھے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال 10 ہزار سے زائد نکاح ناموں کا اندراج ہوا ہے۔ روزانہ 257 سے 829 نکاح ناموں کا اندراج ہو رہا ہے۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.