کاروبار

فکر وخیالات

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

سپریم کورٹ کے سابق جج کا بڑابیان،ملک کی 80فیصد آبادی فرقہ پرست

Administrators

ہماری دنیا بیورو


نئی دہلی،19جنوری:سپریم کورٹ کے سابق جج مارکنڈے جسٹس کاٹجو نے کہا ہے کہ ملک کی 80فیصد آبادی فرقہ پرست ہے اور آئین صرف کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے۔ سابق جج نے punjabtoday.in میں ایک مضمون لکھا ہے۔ اس مضمون میں انہوں نے لکھا ہے کہ ’آئین کے دیباچہ یہ کہتی ہے کہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور آرٹیکل 25 اور 30 بھی یہاںنافذ ہے لیکن سچ کیا ہے؟ سچ یہ ہے کہ آئین صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے اور زمینی حقیقت یہ ہے کہ بھارت ایک بہت بڑا فرقہ وارانہ ملک ہے۔ یہاں کے 80 فیصد ہندو فرقہ پرست اور 15-16 فیصد مسلم بھی ... ایسا کیوں؟ اس کاگہرائی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
سابق جج نے لکھا ہے کہ سیکولرازم، انڈسٹریل سوسائٹی کے علامات ہیں، یہ جاگیردارانہ یا نیم جاگیردارانہ سوسائٹی کے علامات نہیں ہیں۔ بھارت میں جاگیردارانہ معیشت آزادی ملنے کے بعد زمینداری کے ختم ہونے کے بعد تباہ ہو گئی، اگرچہ اب بھی بہت سے لوگ جاگیردارانہ ذہنیت کے شکار ہیں۔ نسل پرستی اور فرقہ واریت جاگیردارانہ طاقتیں ہیں جو اب بھی ہمارے معاشرے میں ہیں، جبکہ بھارت اب بھی ایک نیم جاگیردارانہ ملک ہے۔ کاٹجو نے آگے لکھا ہے کہ جاگیردارانہ معاشرہ زراعت پر مبنی سماج ہے جس میں لوگ چھوٹے گروپ میں ہیں اور بڑے دیہی علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں، جبکہ انڈسٹریل سوسائٹی میں لوگوں کا گروپ بڑا ہے اور یہ لوگ شہروں میں فیکٹری، دفتر یا دیگر مقامات پر کام کر رہے ہیں۔
کاٹجو نے لکھا کہ جب گﺅرکشکوں کی طرف سے کسی مسلم کی لنچنگ کی جاتی ہے تو کچھ ہندو خوش بھی ہوتے ہیں۔ شہریت ترمیمی قانون پر اپنی بات رکھتے ہوئے کاٹجو نے آگے لکھا ہے کہ ملک میں ابھی جو احتجاج چل رہا ہے اس میں زیادہ تر مظاہرین مسلم ہیں، جو ہندو اس تحریک کو سپورٹ کر رہے ہیں ان کی تعداد کافی کم ہے، ہو سکتا ہے صرف 10 فیصد ہو۔میرا خیال ہے کہ سیکولر ملک میں کافی صنعتی اورکاروبار ہونے چاہئے، لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب تاریخی طور پر ایک ساتھ رہتے آ رہے لوگ محب وطن اور جدید ذہنیت کے ساتھ ایک نئے سیاسی اور سماجی نظام کی تعمیر کریں۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.