کاروبار

فکر وخیالات

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

سلیمانی کی شہادت کا ایران اپنے سب سے بڑے دشمن سے کیسے لے گا بدلہ؟

Administrators

تہران،04جنوری(ایجنسیاں)۔

ایران کے میجر جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان 1979 کے بعد سب سے بڑا ٹکراو پیدا ہو گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ کے سب سے بڑے دشمن اور اپنے راستے کی رکاوٹ سمجھنے والے سلیمانی کو شہید کرکے اسلامی جمہوریہ ایران کو بہت بڑا دھچکا دے دیا ہے۔سلیمانی کی موت کے بعد پہلے سے ہی کشیدہ اور پرتشددمشرق وسطی کے علاقے میں نئے جنگ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
بغداد ایئر پورٹ پر امریکی حملے میں قاسم سلیمانی کے شہید ہوجانے کے بعد سے ہی پوری دنیا جنگ کے خدشہ سے خوف میں ہے۔ امریکی اگرچہ ایران سے جنگ نہ چاہتے ہوں لیکن مشرق وسطیٰ کے علاقے میں ایران کی گرفت مضبوط کرنے والے اور عراق کے سب سے بڑے ساتھی سلیمانی کی موت نئے خونی جدوجہد کو جنم دے سکتا ہے۔ایران نے سلیمانی کی موت کے فوراً بعد ہی عہد لے لیا ہے کہ وہ قصورواروں سے زبردست بدلہ لے گا اور اس کی اس دھمکی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔سلیمانی ایران کے صرف میجر جنرل نہیں تھے بلکہ انہیں ملک کا دوسرا سب سے طاقتور شخص کہا جاتا تھا۔ ایران نے حال ہی میں امریکہ کے ایک سرولانس ڈرون کو مار گرا کر اپنے ارادے ظاہر کر دیے تھے، لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایران امریکہ سے بدلہ لینے کے لئے کیا قدم اٹھا سکتا ہے؟

جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا دنیا پر کیا پڑے گا اثر، کیوں خوف میں ہیں لوگ؟

ایران اپنے پراکسی جنگ کی حکمت عملی سے اپنے دشمنوں کو تباہ کرنے میں ماہر ہے۔ تاہم، ایران کے بدلہ لینے کا ہر راستہ خطرے سے گزر جاتا ہے۔ 1979 میں امریکہ کی حمایت یافتہ رضا شاہ کو اقتدار سے اکھاڑ پھینکنے کے بعد سے ایران میں انقلابی حکومت برقرار رہا ہے، ایسے میں وہ امریکہ سے دودوہاتھ کرنے سے پہلے اقتدار گنوانے سمیت تمام نفع نقصان کو ترازو میں تول کر دیکھنا ضرور چاہے گا۔کیلی فورنیا کے پالیسی سازتھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن کے ایسوسی ایٹ پولیٹکل سائنٹسٹ اےرانے تاباتبئی نے نیوز ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہ ہم یہ پیشن گوئی نہیں کر سکتے ہیں کہ ایران اب کس سمت میں جانا پسند کرے گا، لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ ایران ہمیشہ سارا حساب کتاب لگا کر ہی کوئی کام کرتا ہے اور بہت ہی منظم طریقے سے قدم آگے بڑھاتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ایران سخت جواب دینے کے لئے صحیح وقت کا انتظار کرے گا۔

ایرانی صدر نے دی بدلے کی دھمکی،خوفزدہ امریکہ نے اپنے شہریوں کوفوری طور پرعراق چھوڑنے کا دیا حکم

ایران اپنی پراکسی فورس کے لئے مشہور ہے۔ گوریلا جنگ پالیسی سے ایران اپنے سے زیادہ طاقتور فوج کے حوصلے بھی تباہ کئے ہیں۔ 1980-88 میں عراق کے خلاف خطرناک جنگ کے دوران ایران نے اپنی اسی حکمت عملی کے ذریعے خود کو ثابت کرکے دکھایا تھا۔ دوسری طرف، عراق، شام، لبنان اور دیگر ممالک میں ایران کا اچھا خاصا اثر ہے۔ ظاہر ہے کہ مشرق وسطی میں ایران امریکہ سے زیادہ اچھی حالت میں ہے۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.