کاروبار

فکر وخیالات

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

طاقت ہمیشہ نہیں رہتی ، رات بڑی ہو مگر سویرا ضرور ہوگا:محمود مدنی

Administrators

ہماری دنیا بیورو

نئی دہلی،10فروری۔اترپردیش کے ضلع سہارنپورکے قصبہ گنگوہ کے عید گاہ میدان میں سی اے اے اوراین آرسی کے خلاف جمعیة علماءہند کی طرف سے منعقد احتجاجی ریلی کو خطاب کرتے ہوئے جمعیة علماءہند کے جنرل سیکریٹری مولانا محمود مدنی نے کہاں ہے کی میں اس جگہ کھڑا ہوں جہاں مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ نے کہا تھا کہ ہم انگریزوں سے آزادی کے لیے ہرایک نوجوان دیں گے جو پھانسی چومنے کو تیار ہیں۔ ہمارے بزرگوں نے شاملی کے میدان میں انگریزوں سے لوہے کے چنے چبوائے،اگر گولیاں کھائیں ہیں تو سینے پر کھائی ہیں پیٹھ پر نہیں۔ مدنا پورسے پشاور تک کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں مسلمانوں نے اپنے خون سے اس وطن کو سینچا نہ ہو۔ہم اگر مسلمان ہیں تو ہمیشہ یاد رکھیں کہ ہمیں آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا، یہ بات خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کہاہے۔

مولانا مدنی نے کہا کہ حکومت یہ یاد رکھے کہ طاقت ہمیشہ نہیں رہتی ہو سکتا ہے کہ رات بڑی ہو مگر سویرا ضرور ہوگا۔ہم یہ چاہتے ہیں کہ سنبھل جائیں، ہماری ان سے کوئی دوری نہیں۔ ہم انسانوں کو برابر سمجھتے ہیں، انسانی اخوت اور بھائی چارہ کے راستے میں مذہب نہیں آتا، ہمارے مذہب نے یہ تعلیم دی ہے۔آپ کی سرکار نے ملک کے دستور اور اس کے آئین کی مخالفت کی ہے، آپ نے اس ملک سے غداری جیسا کام کیا، اگر آپ نے خود کو درست نہیں کیا تو آپ کو خود درست کردیں گے۔یاد رکھئے طاقت کا نشہ کوئی اچھی چیز نہیں ہے، آپ لوگوں کے صبر کا امتحان نہ لیجئے۔ یہ نہ سمجھئے کہ لوگ تھک جائیں گے یہ آپ کی غلط فہمی ہوگی۔ یاد رکھیے کہ ہمارے بزرگوں نے سو سال انگریزوں سے لڑائی لڑی۔ تو تیر آزما ہم صبر آزما بس۔ اگر ہم آزمائش میں کامیاب ہوگئے تو ہماری نجات ہوگی۔ کامیابی اس میں نہیں کہ ہم جو چیز چاہیں ہمیں مل جائے بلکہ کامیابی اس میں ہے کہ اللہ ہم سے راضی ہوجائے۔ہم کو ہر چیز منظور ہے ہے مگر یہ منظور نہیں کہ جو آزادی ہم نے حاصل کی وہ ہم سے چھین لی جائے۔ہمیں موقع تھا ہم جا سکتے تھے مگر ہم نے اس وطن کو چھوڑا کیا؟ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ کہتے ہیں یہاں رک کر کوئی احسان نہیں کیا تو ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یہ احسان کی بات نہیں ہے لیکن اس وطن کو چن کر یہ ثابت کردیا کہ دوسروں کے مقابلے یہ وطن مجھے زیادہ عزیز ہے۔

ہم آپ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہماری زندگی ہمارا مقصود نہیں۔ ہمارے نبی نے فرمایا کہ دنیا تمہارے لیے ہے اور تم عبادت کے لیے ہو، ہماری لڑائی ملک کے دشمنوں سے ہے، اگر دل میں قربانی کا جذبہ ہو ہمیں کوئی بھی ہرا نہیں سکتا۔تیسری اور آخری بات یہ ہے کہ ہمیں اللہ سے رجوع کرنا چاہیے کہ اگر ہم اس سے مانگیں گے تو دنیا کے لوگوں کے سامنے جھکنے سے نجات مل جائے گی۔لیکن یہ بات بھی یاد رکھئے کہ دعا اور دوا دونوں ہی ضروری ہے، اس لیے جو لوگ جہاں جمے ہیں۔ مضبوطی کے ساتھ جمے رہیں،جو خواتین اہتمام اور پردہ کے ساتھ مظاہرہ گاہوں میں ثابت قدم ہیں، ان کے ساتھ ہمارا ہر طرح کا تعاون ہے اور رہے گا۔کسی کے دباوکسی کی لالچ اور کسی کے رعب میں نہیں آنا چاہئے۔ ہماری قربانیاں، جدوجہد ہماری زندگی کا ثبوت ہیں،لیکن اس کا خیال رہے کہ جوش ضرور ہونا چاہیے مگر ہوش کے ساتھ مسلمان سب کچھ ہو سکتا ہے مگر ظالم نہیں ہوسکتا۔اگر ہم لڑ رہے ہیں تو اپنے ملک کی عزت ووقار کے تحفظ کے لیے لڑ رہے ہیں۔ آپ کی سرکار نے عالمی سطح پر ملک کی حیثیت اور اس کی شناخت کو نقصان پہنچایا ہے۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار دنیا میں قراردادیں منظور ہو رہی ہیں۔

 

You May Also Like

Notify me when new comments are added.