کاروبار

فکر وخیالات

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

توصیف رضا خاں خانقاہ قادریہ رضویہ مرکز اہلسنت درگاہ اعلی ٰحضرت بریلی شریف کاوزیراعظم نریندر مودی کے نام کہلا خط

Administrators

جناب وزیراعظم نریندرمودی جی! 

یہ بات آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ متحدہ ہندوستان کی تقسیم یہاں کے عام مسلمانوں کی منشاءکے خلاف عمل میں آئی تھی۔تقسیم ہند کے لئے عمومی طور پر ہرگزہرگز ہندوستانی مسلمانوں کو ذمہ دار قرار نہیںدیا جاسکتا۔یہ تقسیم اس وقت کے چندہندو مسلم سیاسی قائدین کے اپنے ذاتی وسیاسی مفاد کانتیجہ ہے۔جنہوں نے اس وقت ایسے حالات پیدا کر دئیے کہ ہمارا ملک منقسم ہو کر دو بلکہ تین ایسے ملکوں کی صورت میں سامنے آیا کہ جہاں کے باشندے اور ان کی نسلیں بغض وعداوت اور جدائی و فراق کی سزا آج تک بھگت رہی ہیں۔

pm Modi.jpg

 

بہرحال حالات کے پیش نظرہندوستان منقسم ہوا۔ جنہیں پاکستان جانا تھا وہ وہاں چلے گئے۔لیکن اس وقت جو مسلمان یہاں رہ رہے ہیں اور جو یہاں کے قدیم و پشتینی باشندے ہیں انہوں نے یاان کے بزرگوں نے اسی ہندوستان میں رہ جانا پسند کیا کیونکہ گاندہی جی اور۔مسٹر ابو الکلام آزاد جیسے لیڈروں نے پہر ہمارے ملک کے دستور نے یہ وعدہ کیا تھا اور یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ یہاں ان کے ساتھ کوئی تفریق نہ ہو گی اور نہ کوئی بہید بہاو ہوگا۔نہ ان پر ظلم ہوگا اور نہ ان کی تھذیب و ثقافت اور مذہبی معاملات میں دخل اندازی کی جائے گی بلکہ انہیں مکمل مذہبی آزادی دیجائے گی۔۔ان کے مدارس ومساجد اور مقامات مقدسہ کی حفاظت کی جائے گی۔۔۔اور انہیں اس ملک میں ایک باعزت شہری کی حیثیت حاصل رہے گی۔
یہی وہ خوشنما وعدے تھے جن کے مدنظر مسلمان یہاں رکے ورنہ ان کے پاس سرحد پار جانے کا کہلا آفشن اور قانونی حق و اختیار تھا۔اس کے باوجود انہوں نے اسی ملک میں رہناپسند پسند کیا۔۔اور ہمیشہ اس ملک کے تئیں وفادار رہے اور ہمیشہ رہیںگے۔لیکن آزادئی ہند کی تقریبا سات دہائیاں گزر جانے کے بعد آج گاندہی جی کے بہارت میں دستور ہند اور گاندہی جی جیسے لیڈران کے وعدوں کی کس طرح دہجیاں بکہیری جارہی ہیں وہ سب آپ کے سامنے ہیں بلکہ آپ کی قیادت و سرپرستی میں یہ سب ہو رہا ہے۔
جب سے دوسری بار آپ کی بی۔جئے۔پی پارٹی برسر اقتدار آئی تب سے آپ کی حکومت اور آپ کے کچہ بے لگام لیڈران و ارکان حکومت مسلمانوں کے وجود کو چھلنی کرکے اس پر نمک پاشی کا کام کررہی ہے۔آپ کی پارٹی کے لیڈران آئے دن مسلمانوں کے خلاف زہرافشانی کرتے ہیں۔۔آپ کی پارٹی کا خریدا ہوا میڈیا اسلام مسلمانوں اور شریعت کے خلاف بکواس کرتا رہتا ہے۔ہرروز کچھ چینل شام ہوتے ہی مسلمانوں کے خلاف تماشہ و چوپال لگاکر دیر رات تک قوم مسلم کو ذہنی وروحانی تکلیف پہنچا تے ہیں۔سونے پر سہاگہ یہ کہ آپ کی حکومت نے مسلمانوں کےخلاف کچہ ایسے فیصلہ لئے جن کی وجہ سے ہندوستانی مسلمان اضطراب وبے چینی کا شکار ہے اور یہ اضطراب جائز بہی ہے۔مودی جی! آپ کی حکومت نے سب سے پہلے طلاق ثلاثہ سے متعلق قانون بنا کر مسلمانان ہند کو روحانی تکلیف پہونچائی مگر مسلمانوں نے صبر کیا۔پھر کشمیر کاخصوصی درجہ ختم کیا گیا جبکہ بہت سے ہندوستانی صوبوں کا یہی خصوصی درجہ ابہی بہی برقرار ہے۔۔مگر چونکہ کشمیر میں مسلم قوم کی اکثریت تھی اس وجہ سے یہ متعصبانہ رویہ اختیار کیا گیا مگر ہندوستانی مسلمان صبر کرتا رہا۔پھر مسلمانوں کے ہاتھ سے ان کی پانچ سو سال پرانی تاریخی بابری مسجد گئی لیکن مسلم قوم نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔۔۔اب تو آپ کی حکومت نے شہریت ترمیمی قانون بناکر اور اس کے بعد این آرسی لانے کاعزم مصمم ظاہر کرکے ظلم و ستم اور مسلم مخالف پالیسی بنانے کی راہ میں ساری حدیں ہی پار کردیں۔
مودی جی! آپ اور آپ کی پارٹی کے لیڈر کیا سمجھتے ہیں کہ یہ ملک مسلمانوں کا نہیں ہے؟کیا اس ملک کی تعمیر وترقی۔۔اس کی آزادی و حفاظت میں مسلم قوم کی قربانیاں اور لہو شامل نہیں ہے؟ہے اور بلاشبہ ہے ،تاریخ پڑہئے۔اس تاریخ کے اوراق میں اپنے افکار و نظریات کے بانیان کو تلاش کرنے اور پہر ہمارے بزرگوں کی درخشاں قربانیاں ملاحظہ کرنے۔ مودی جی! یہ ملک جمہوریت کاعلم علم بردار ہے۔یہاں متعدد تہذیب و ثقافت۔مختلف مذاہب۔مختلف رنگ ونسل اور متعدد زبانوں کے حامل انسان رہتے و بستے ہیں۔
عالمی سطح پر اس کا ایک وقار ہے اس ملک کی بنیاد بہائی چارگی اور جمہوریت پر رکہی ہوئی ہے اس ملک میں تاناشاہی ڈکٹیٹر شپ اور بھید بھاو¿ کی کوئی جگہ نہیں یہاں کا اقتدار کبھی بھی کسی ایک پارٹی کے ہاتھ نہیں رہا۔یہ بدلتا رہتا ہے۔ذرا سوچیں آج جب کہ سیاسی طاقت و قوت آپ کے پاس ہے تو آپ کی حکومت یہ سب کررہی ہے مگر کل جب یہ طاقت واقتدار آپ کے ہاتھ سے جائے گا تب ہندوستان کی تاریخ اور تاریخ انسانیت آپ کو کس انداز میں یادرکہے گی؟کیا تاریخ نے ہٹلر کو معاف کردیا؟ کیا تاریخ آپ کو معاف کرےگی؟
مودی جی! آپ کی حکومت کے ان مسلم مخالف فیصلوں کی وجہ سے عالمی سطح پر وطن عزیز کی شبیہ آئے دن خراب ہوتی جارہی ہے جس سے ملک کا وقار مجروح ہوا ہے , جب سے آپ کی پارٹی ’بی جے پی،شہریت ترمیمی ایکٹ لائی ہے اس کے بعد سے ملک کا منظر نامہ آپ کے سامنے ہے،اگر آپ واقعی پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آئے ہوئے ” شرنارتھیوں“ کو شہریت دینے کے لئے یہ قانون لائے ہیں تو اس سے ہیں کوئی تکلیف نہیں۔۔۔پریشانی تو اس وقت لاحق ہوئی ہے جب اس قانون کو این آر سی سے ملاکر نتیجہ نکلتا ہے اور وہ یہ کہ جن مسلمانوں کے پاس اپنی شہریت کو ثابت کرنے کے لئے دستاویز نہ ہونگے وہ غیر ملکی قرار دے کر اپنے سارے بنیادی حقوق سے محروم کردئے جائینگے اور جو غیر مسلم اپنی شہریت ثابت نہ کرپائینگے وہ اس شہریت ترمیمی قانون کی مدد سے آسانی کے ساتھ یہاں کی شہریت حاصل کرلیں گے۔مودی جی! یہی وہ بے چینی ہے جس کی وجہ سے آج ملک کا ہرمنصف شہری خاص کر مسلم قوم پر سڑکوں پر نکل پڑی۔مگر بجائے اس کے کہ آپ کی حکومت اور آپ کے ارکان پارلیمنٹ مسلمانوں کے اعتماد بحالی کے لئے اقدامات کرتے الٹا آپ کی ماتحت پولیس فورس نے طاقت و قوت اور ظلم وبربریت کے ذریعہ اس کالے قانون کے خلاف بلند ہونے والی آوازوں کو دبانے کی مذموم کوشش کی جس کی وجہ سے بیسیوں مسلماوں اپنی جان سے ہاتھ دہو بیٹھے۔۔سینکڑوں زخمی اور ہزار و جیل کی سلاخوں کے پیچہے ڈہکیل دئے گئے۔
مودی جی! اس وقت ہندوستان بہت نازک دور سے گزر رہا ہے۔نوجوان روزگار سے محروم ہیں۔مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے۔کمپنیاںبھاگ رہی ہیں،فیکٹریاں بند ہورہی ہیں،بے روزگاری بڑہتی جارہی ہے،تعلیمی ادارے سخت مشکلات کا شکار ہیں۔اس ملک کے بے شمار مسائل ہیں جن پر توجہ مرکوز کرنا ان مسلم مخالف قوانین بنانے سے زیادہ ضروری ہے۔
مودی جی! آسام این آر۔سی۔سے سبق لیتے ہوئئے پورے ملک میں این آرسی لانے کی غلطی ہرگز مت کرئے۔ملک کا اربوں کھربوں روپیہ برباد مت کرئے۔شہریت ثبوت کے دستاویز بنوانے کے نام پر ملک میں رشوت کابازار گرم نہ کرائیں ۔ملک میں نفرت پھیلنے سے بچائیں ۔ملک کو ٹوٹنے سے بچائیں ملک کے مسلمانوں کا اعتماد بحال کرائیں۔جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے طلبہ و طالبات کے ساتھ دہلی پولیس نے جو ظلم وبربریت کیا ان پولیس والوں کی نشاندہی کرکے انہیں سزا دیجئے۔ملک کے جن خطوں خاص کر یوپی کے مختلف اضلاع میں پولیس کے تشدد کیو جہ سے مسلمانوں کا جو سخت جانی ومالی نقصان ہوا اس کے ذمہ دار جو پولیس والے ہیں انہیں قرار واقعی سزا اور متاثرین کو معاوضہ دلائیں۔جو جیلوں میں بہیجے گئے ہیں انہیں رہا کرائیں۔جن پر مقدمے لکہے گئے ہیں ان سے مقدمات واپس لیں۔اور جلد سے جلد شہریت ترمیمی قانون واپس لینے اور پورے ملک میں این۔آر۔سی نہ لانے کا اعلان کریں ورنہ کہی ایسا نہ ہو کہ مہاراشٹر اور جہارکہنڈ کی طرح پورے ملک سے ہی آپ کی حکومت کا خاتمہ نہ ہوجائے۔
اس لئے مرکز اہلسنت بریلی شریف کی آپ سے اپیل ہے کہ اس کالے قانون سے ملک عزیز کو نجات دلائیں۔اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت مسلمانوں کی اس ملک میں جان مال عزت و آبرو کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔۔فقط

You May Also Like

Notify me when new comments are added.