کاروبار

فکر وخیالات

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

مودی کے وزیرکے ذریعہ لگائے گئے متنازعہ نعرے کا ساخشانہ،جامعہ میں دہشت گردانہ فائرنگ

Administrators

ہماری دنیا بیورو
نئی دہلی، 30 جنوری:شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور قومی شہریت رجسٹر (این آرسی) کی مخالفت میں دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے راج گھاٹ تک مارچ کررہے مظاہرین پرایک مشتبہ دہشت گرد نے فائرنگ کردی۔ جس میں ایک طالب علم زخمی ہوگیا۔حملہ آور اپنا نام پولیس سے گوپال بتا رہا ہے۔ ساتھ ہی خود کو رام بھگت بھی بتا رہا ہے۔ پولیس حملہ آور کے دعوے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ زخمی طالب علم کی شناخت شاداب کے طور پر ہوئی ہے۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ماس کمیونیکیشن کا طالب علم ہے۔یہ حملہ جمعرات کی دوپہر میں کیا گیا۔ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ اتنی سخت سیکورٹی کے انتظامات کے بعد بھی گولی چلی۔ پورے مارچ والے علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس فورسز کی تعیناتی ہے ان سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان دہشت گرد کھلے عام بندوق لے کر کیسے گھس گیا اور گولی چلادی۔
جائے حادثہ پر موجود لوگوں کا کہنا ہے کہ دہشت گرد کھلے عام ہتھیار لہررہا تھا لیکن پولیس نے کچھ نہیں کیا۔ مظاہرین کی جانب یہ دہشت گرد آگے بڑھ رہا تھا،اس دوران پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی۔ساو¿تھ ایسٹ دہلی کے ڈپٹی کمشنر چن مے بسوال نے کہا کہ حملہ آور کھلے میں پستول لہراتا نظر آرہا ہے۔ ہمارے پاس جو ویڈیو ہے، اس کی جانچ ہم کررہے ہیں۔ نوجوان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ زخمی نوجوان کے نام کی بھی جانکاری اب سامنے نہیں آئی ہے۔ معاملے کی جانچ کی جاری ہے، ملزم سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔عینی شاہدین کے مطابق نوجوان گولی چلانے کے دوران بھارت ماتا کی جے، دہلی پولیس زندہ باد اور وندے ماترم کا نعرہ لگا رہا تھا۔پولیس نے دہشت گرد حملہ آور کو حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس حملہ آور سے پوچھ گچھ کر رہی ہے، گولی لگنے سے زخمی نوجوان کو ہولی فیملی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں مودی حکومت میں وزیر انوراگ ٹھاکر نے ایک ریلی کے دوران عوام سے متنازعہ نعرے لگوارہے تھے۔ملک کے غداروں کو گولی مارو۔۔۔ کو۔ مودی حکومت کے ذریعہ پارلیمنٹ میں پاس کئے گئے متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے ہورہے ہیں اور بی جے پی کے وزراءاور لیڈران ان مظاہرین کو دہشت گرد ثابت کرنے پر لگے ہوئے ہیں۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.