کاروبار

فکر وخیالات

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اسلامی نظریہ کی جڑ امن و شانتی ہے

Administrators

!مکرمی

جھگڑاور فساد ایک اہم مسئلہ ہے جس سے پوری دنیا متاثر ہوتی ہے۔ دنیامیں تنازعات وائرس کی طرح پھیل رہے ہیں۔ دنیا کے بیشتر لوگ عالمی تنازعات کو ختم کرنا اور امن حاصل کرنا چاہتے ہیں، تاہم آج تک امن وشانتی کا متلاشی کوئی شخص اس کی حصولیابی کی تہہ تک نہیں پہنچ پایا ہے۔ یہ ایک بڑا سوال ہے جس کا جواب تلاش کرنے میں عالمی رہنما اور مختلف عالمی ادارے اپنی پوری توانائی اور روپئے پیسے کے ساتھ لگے ہوئے ہیں۔ماہرین، تجزیہ نگار اوراسکالرز نے عالمی امن کیلئے مختلف حل اور تجاویز رکھی ہیں، تاہم نتائج نہ کے برابر ہیں۔ دراصل امن وشانتی کی اصل جڑ تک پہنچنے کی ضرورت ہے جوصرف مذہب اسلام کے پاس ہے۔ عربی زبان سے لفظ ’اسلام‘ نکلتاہے جس کے معنی ’امن و شانتی‘ کے ہیں، تاہم کچھ لوگ اسلام کو تشدد، ظلم،بدعنوانی اور دہشت گردی سے جوڑتے ہیں جبکہ قرآنی تعلیمات اس کی سختی سے تردید کرتی ہیں۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ سورہ مائدہ کی آیت نمبر 32میں فرماتے ہیں کہ ’’جس شخص نے کسی فرد کاقتل کیا بغیرکسی جان کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلایا تو گویا اس نے پوری دنیا کا قتل کیااور جس نے کسی شخص کی جان بچائی اس نے گویا پوری دنیا کو بچالیا“۔ اس آیت کی روشنی میں ایک سچے مسلمان کا عقیدہ ہے کہ اسے تشدد یا جھگڑے میں کوئی حصہ نہیں لیناہے، دہشت گردی اور خون خرابے سے دور رہناہے۔ اسلام نے ہمیں چوری، زنا کے ارتکاب اور قتل وخونریزی سے سختی سے روکا ہے۔ قرآن مجید کی سورہ مائدہ کے اس سے اگلی آیت 33میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ’جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے جھگڑتے اور ملک میں فتنہ وفساد پھیلاتے ہیں، ایسے لوگوں کابدلہ یہی ہے کہ چن چن کروہ قتل کئے جائیں اور سولی پر لٹکادیئے جائیں، یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں۔ یہ بدلہ دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کیلئے اللہ تعالی نے بڑا عذات مقرر کر رکھا ہے۔

محمد ہاشم

چوڑیوالان، جامع مسجد، دہلی

You May Also Like

Notify me when new comments are added.