کاروبار

فکر وخیالات

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

عدم مساوات پر سنسنی خیز انکشاف:ایک فیصد امیر ہندوستانیوں کے پاس ہے 95 کروڑ لوگوں سے 4 گنا زیادہ دولت

Administrators

ہماری دنیا بیورو

داووس20 جنوری۔ بھارت میں امیروں اور غریبوں کے درمیان زبردست عدم مساوات ہے۔ بھارت کے صرف ایک فیصد امیروں کے پاس ملک کی کل آبادی کا 70 فیصد یعنی 95.3 کروڑ لوگوں کے پاس موجود کل دولت کا چار گناسے بھی زیادہ دولت ہے۔ یہی نہیں، بھارتی بلینریز (ڈالر میں اربپتی) کے پاس جتنی املاک ہے وہ مرکزی حکومت کے ایک سال کے کل بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ایک نئی ریسرچ میں یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کی 50 ویں سالانہ اجلاس سے پہلے اوکسفیم کی طرف سے جاری ایک اسٹڈی’ٹائم ٹو کیئر‘ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دنیا کے صرف 21543 بلینریز کے پاس دنیا کی 60 فیصد آبادی (4.6 ارب لوگوں) سے زیادہ املاک یعنی ویلتھ ہے۔
یہ رپورٹ دنیا میں عدم مساوات کے حیران کر دینے والے انکشافات کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں دنیا میں بلینریز کی تعداد دگنی ہو گئی ہے، اگرچہ ان کی کل املاک میں گزشتہ سال کچھ کمی آئی ہے۔آکسفیم انڈیا کے سی ای او امیتابھ بہر نے کہاکہ جب تک حکومتیں عدم مساوات دور کرنے والی پالیسیوں پر زور نہیں دیتیں، امیروں اور غریبوں کے درمیان فرق کو دور نہیں کیا جا سکتا۔سوئٹزرلینڈ کے شہرداووس میں پیر سے شروع ہو رہے ورلڈ اکنامک فورم کے دوران آمدنی اور صنفی عدم مساوات کے سوالوں کو نمایاںطور پر اٹھایا جا سکتا ہے۔بھارت میں عدم مساوات کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے آکسفیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 61 بھارتی بلنیریز کے پاس جتنی املاک ہے وہ خزانہ حکومت ہند کے سال 2018-19 کے کل بجٹ (24.42 لاکھ کروڑ روپے) سے بھی زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بھارت میں کسی ٹیکنالوجی کمپنی کاٹاپ سی ای او سال میں جتنا کماتا ہے، اتنا کمانے میں کسی گھریلو خاتون نوکرانی 22277 سال لگ سکتے ہیں۔ اسی طرح ایک گھریلو نوکر جتنا سال بھر میں کماتا ہے اتنا کمانے میں کسی ٹیک سی ای او کو محض 10 منٹ لگتے ہیں۔ وہ ہر سیکنڈ قریب 106 روپے کماتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین اور لڑکیاں ہر دن خاندان یا دوسرے لوگوں کی دیکھ بھال میں بغیر ایک پیسہ لئے 3.26 ارب گھنٹے کام کرتی ہیں۔ یہ ہندوستانی معیشت میں سالانہ 19 لاکھ کروڑ روپے کی شراکت کے برابر ہے، جو حکومت ہند کے تعلیم بجٹ (93000 کروڑ روپے) کا تقریبا 20 گنا زیادہ ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر جی ڈی پی کے 2 فیصد تک اکنامی میں براہ راست عوامی سرمایہ کاری کی جائے تو ہر سال 1.1 کروڑ ملازمتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.