کاروبار

فکر وخیالات

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

معیشت کے اعداد وشمار میں کوئی بہتری نہیں، گزشتہ 15 دن میں لگے یہ 7 دھچکے

Administrators

ہماری دنیا بیورو
نئی دہلی، 13 دسمبر:بھارتی معیشت طویل وقت سے ٹھیک نہیں چل رہی ہے۔ صرف گزشتہ 15 دن میں کئی ایسے اعداد و شمار آئے ہیں جو معیشت کی بدحالی کی کہانی کہہ رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار حکومت کے لئے کسی جھٹکے سے کم نہیں ہیں۔ آئیے جانتے ہیں ایسے ہی کچھ اقتصادی اعداد و شمار کے بارے میں
1- دوسری سہ ماہی کے جی ڈی پی کے اعداد و شمار
گزشتہ 29 نومبر کو رواں مالی سال (2019-20) کی دوسری سہ ماہی کے جی ڈی پی کے اعداد و شمار جاری کئے گئے تھے۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک کی اقتصادی حالت پہلے کے مقابلے زیادہ خراب ہو گئی ہے۔ اس کے مطابق دوسری سہ ماہی میں جی ڈی پی کے اعداد و شمار 4.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔یہ قریب 6 سال میں کسی ایک سہ ماہی کی سب سے بڑی کمی ہے۔اس سے پہلے مارچ 2013 سہ ماہی میں ملک کی جی ڈی پی کی شرح اسی سطح پر تھی، وہیں مسلسل 6 سہ ماہی سے کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔
2 -کور انڈسٹری کا برا دور
اسی دن اکتوبر ماہ کے کور سیکٹر کے اعداد و شمار جاری کئے گئے۔ حکومت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ایک سال پہلے کے مقابلے اکتوبر مہینے میں کور سیکٹر 5.8 فیصد نیچے آ گیا۔ انڈسٹری کے کھاد سیکٹر کو چھوڑکر 7 دیگر سیکٹرمتاثر نظر آئے۔ بتا دیں کہ کور سیکٹر کے 8 اہم صنعت میں کوئلہ، خام، تیل، قدرتی گیس، ریفائنری پروڈکٹس، کھادیں، اسٹیل، سیمنٹ اور الیکٹریسٹی آتے ہیں، ان کی بھارت کے کل انڈسٹریل پیداوار (صنعتی پیداوار) میں تقریباً 40 فیصد حصہ داری ہوتی ہے۔
3-آربی آئی نے بھی دیا دھچکا
گزشتہ 5 دسمبر کو ریزرو بینک نے مانیٹری پالیسی جائزے میں مالی سال 2019-20 کے دوران ملک کی جی ڈی پی کے اندازہ کو 6.1 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کر دیا ہے۔ ریزرو بینک کا یہ اندازہ حکومت کے لئے دھچکا ہے۔ آر بی آئی نے کہا کہ اقتصادی سرگرمیاں اور کمزور پڑی ہیں اور پیداوار کا فرق منفی بنا ہوا ہے۔ اس کے پہلے ریزرو بینک نے اکتوبر مہینے میں پالیسی جائزے میں یہ اندازہ ظاہر کیا تھا کہ مالی سال 2019-20 میں جی ڈی پی کی برتری 6.1 فیصد ہو سکتی ہے۔ وہیں نومورا سمیت مختلف اداروں نے بھی جی ڈی پی کی شرح کا اندازہ کم کرکے جھٹکا دیا ہے۔
4- معیشت پر کم ہوابھروسہ!
یہی نہیں، لوگوں کا معیشت سے بھروسہ بھی کم ہوا ہے۔ آر بی آئی سروے رپورٹ کے مطابق نومبر مہینے میںکنزیومر کانفیڈینس انڈیکس گر کر85.7 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ یہ 2014 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سب سے نچلی سطح ہے۔کنزیومرکانفیڈینس انڈیکس میں کمی کا مطلب یہ ہوا کہ ملک کی معیشت کو لے کر لوگوں کا بھروسہ کم ہوا ہے اور صارفین خریداری نہیں کر رہے ہیں، بھارتی معیشت کے لئے یہ تشویش کی بات ہے۔
5-آٹو انڈسٹری میں تباہی برقرار
آٹو انڈسٹری میں تباہی نومبر میں بھی برقرار رہی۔ سوسائٹی آف انڈین آٹوموبائل مینوفیکچرس(سیام) کے اعدادوشمار کے مطابق نومبر میں آٹو سیکٹر کی مجموعی فروخت میں سالانہ بنیاد پر 12.05 فیصد کی کمی درج کی گئی ہے۔ وہیں اپریل سے نومبر کی مدت میں فروخت قریب 16 فیصد کم ہو گئی ہے۔ اس مدت کے درمیان پیداوار میں بھی 13.75 فیصد کی کمی آئی ہے۔نومبر میں کل فروخت 1792415 گاڑیوں کی رہی،جبکہ ایک سال پہلے اس وقت یہ فروخت 2038007 گاڑیوں کی رہی تھی۔
6- صنعتی پیداوار میں بھی آئی کمی
حال ہی میں حکومت کی جانب سے جاری اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ صنعتی پیداوار (آئی آئی پی) اکتوبر مہینے میں 3.8 فیصد کم ہو گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صنعتی پیداوار میں ستمبر مہینے میں 4.3 فیصد اور اگست ماہ میں 1.4 فیصد کی کمی آئی تھی۔
7- خوردہ مہنگائی میں تیزی
پیاز سمیت دیگر سبزیوں، دال ، گوشت، مچھلی جیسی پروٹین والی اشیاءکی قیمت بڑھنے سے نومبر ماہ میں خوردہ افراط زر کی شرح 5.54 فیصد سے بڑھ کر تین سال کے سب سے اونچی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اس سے پہلے جولائی 2016 میں خوردہ مہنگائی کی شرح 6.07 فیصد تھی۔ اعدادوشمار کے مطابق ماہ کے دوران سبزیوں، دال اور پروٹین سے بھرپور کھانے کی اشیاءکے مہنگا ہونے سے خوردہ مہنگائی میں کافی تیزی آئی ہے۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.