کاروبار

فکر وخیالات

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

دیوالی کے بعد کیجریوال کاکورونا مریضوں کا مذہب کی بنیاد پر بولیٹین جاری نہ کرنا خوشی کی بات

کورونا بحران کے وقت میںقومی ذرائع ابلاغ کے رویہ میں تبدیلی خوش آئند، مستقبل میں بھی میڈیا سے مثبت رویہ کی امید: امپار

Administrators

ہماری دنیا بیورو

نئی دہلی،24نومبر۔ ملک کے وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے ایک پرائیوٹ ٹی وی چینل کو دیئے ایک انٹرویو میں اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ حکومت نے پہلے ہی متنبہ کیا تھا کہ اگر سوشل ویکسین کے ساتھ کورونا پروٹوکال کا استعمال نہیں کیا گیا تو تیوہاروں کے موسم میں کورونا کے معاملہ میں اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔حکومت کی طرف سے تمام تدابیر اختیار کئے جانے کے باوجود جس طرح سے دیوالی کے مبارک موقع پر بڑی تعداد میں بازاروں میں شاپنگ دیکھنے کو ملی اور اس کے بعد دہلی اور شمالی ہند کے شہروں میں کوڈ -19 کے معاملات میں تیزی دیکھنے کو ملی وہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔

اس پورے معاملے میں (آئی ایم پی اے آر) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہاگیا ہے کہ دیوالی کے بعد جس طرح سے معاملوں میں اضافہ ہوا اور اس پر میڈیا میں نہ کوئی بحث ہوئی اور نہ ہی کس طرح کی چیخ و پکار جو بہترین عمل ہے۔ امپار نے میڈیا کے اس عمل کی تعریف کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر میڈیا کا یہی رویہ کورونا کے شروعاتی دنوں میں ہوتا تو ملک میں اس طرح کی نفرت نہیں پھیلتی جس طرح کی نفرت میڈیا کے ایک طبقہ کی چوک کے سبب پھیلی ہے۔امپار نے خوشی ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ اس سے یہ بات واضح طور پر سمجھ میں آتی ہے کہ گزشتہ 6 مہینے میں ہمارے ٹی وی چینلز کو کورونا کی سنگینی اچھی طرح سمجھ میں آئی ہے جو شروعاتی دنوں میں ایک مخصوص سماج اور مذہب کے لوگوں کو کورونا کے پھیلانے کیلئے ذمہ دار بتا رہے تھے۔امپار نے کہاہے کہ خوشی کی بات یہ ہے کہ میڈیا نے کورونا کے معاملہ میں گذشتہ چھ ماہ میں دو مذاہب اور طبقات کے درمیان لڑانے اور نفرت پھیلانے والی بحث کا انعقاد نہیں کیا ہے اور نہ ہی کوئی آنکھ مچولی والے کھیل انعقاد کرنے کی کوشش کی جو قابل تعریف ہے اور اس کی تعریف کی جانی چاہئے۔

امپار کی جانب سے جاری بیان میں کہاگیا ہے کہ جس طرح کورنا جہاد کیس میں چنئی، ممبئی اور دیگر ہائی کورٹ نے میڈیا کی منفی رپورٹنگ پر لتاڑ لگاتے ہوئے کہاکہ تبلیغی جماعت والوں کو غلط ڈھنگ سے پھنسایاگیا ،اس واقعہ سے سبق لیتے ہوئے میڈیا نے جس طرح دیوالی کے موقع پر رپورٹنگ کی اس سے عدالتوں کا وقت ایک بار پھر برباد ہونے سے بچ گیا۔امپارنے کہاکہ ہمیں مارچ 2020 کی آخری اور اپریل 2020 کی شروعاتی دنوں کو یاد کرنے کی ضرورت ہے جب میڈیا کو ایک خاص طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کورونا جہادی اور ایک خاص جگہ مرکز نظام الدین کورونا جہاد کا سینٹر نظر آرہا تھا اور سماج میں شدید نفرت پھیلائی جارہی تھی۔اور اس بیچ سیکولر کیجریوال کورونا معاملے میں تبلیغی جماعت کے لوگوں کے نام کا الگ سے بولیٹن جاری کررہے تھے لیکن خوشی کی بات یہ ہے کہ کیجریوال نے سابقہ غلطی سے سبق لیا اور دیوالی کے موقع پر کوئی ایسا بولیٹین جاری نہیں کیا اور نہ ہی کررہے ہیں جس سے سماج میں نفرت پھیلتی۔

امپار نے کہاہے کہ کچھ چینلوں کی جانب سے کورونا جہاد جیسی ڈبیٹ کا انعقاد کئے جانے سے مسلمانوں کو شدید تکلیف پہونچی ہے۔ اس کی وجہ سے ملک میں منافرت میں اضافہ ہوا ہے۔ساتھ ہی طبقات کے مابین دوریاں بھی پیدائی ہوئی ہیں جو تکلیف دہ اور افسوسناک ہے۔ امپار نے میڈیا کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ جس طرح میڈیا نے دیوالی جیسے مبارک موقع پر اس طرح کے پروگرام نہ کرکے ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں بھی میڈیا اسی طرح سے ذمہ داری کا ثبوت دے گا، جس سے مختلف طبقات اور مذاہب کے مابین محبت کا ماحول پیدا ہو۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.