کاروبار

فکر وخیالات

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

شہریت قانون کی مخالفت کا سامنا کررہی بی جے پی کیلئے اس سے بری خبر کوئی نہیں ہوسکتی،لگابڑا دھچکا

Administrators

ہماری دنیا بیورو

احمد آباد، 22 جنوری(ہ س۔ملک بھر میں شہریت قانون کے خلاف زبردست عوامی مخالفت جھیل رہی بی جے پی کیلئے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرداخلہ کے آبائی ریاست گجرات سے بہت بری خبر آئی ہے۔ گجرات کے ساولی سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ممبر اسمبلی کیتن بھائی انعام دار نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ اسمبلی اسپیکر کوپیش کردیا ہے۔ کیتن بھائی انعام دار نے استعفیٰ کے لئے روپانی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری بات اس حکومت میں نہیں سنی جاتی۔

کیتن انعام دار نے اپنے استعفیٰ میں لکھا ہے، میرے اسمبلی حلقہ کے لوگوں کی جو مانگ تھی، اسے حکومت اور انتظامیہ کے سامنے رکھا تھا، مگر حکومت اور بابوو¿ں کے ڈھیلے رویہ کی وجہ سے عوام کے نمائندے کے طور پر رکن اسمبلی کے عہدے سے اپنا استعفیٰ دیتا ہوں۔ سرکاری افسر عوامی نمائندوں کا احترام نہیںکرتے ہیں۔ کیتن انعام دار کے استعفیٰ سے بی جے پی اب 103 سیٹ سے 102 سیٹ پر آ گئی ہے۔ اپریل میں راجیہ سبھا انتخابات ہونا ہے اور الیکشن سے پہلے اس استعفیٰ کو بی جے پی کے لئے ایک بڑا دھچکا مانا جا رہا ہے۔
کیتن بھائی نے یہ بھی کہا ہے کہ انہوں نے رکن اسمبلی کے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے، جبکہ وہ بی جے پی کے کارکن کے طور پر بنے رہیں گے۔ وہیں کانگریس نے کہا ہے کہ وہ کیتن بھائی سے رابطہ کر کے انہیں کانگریس میں لانے کی کوشش کرے گی۔ غور طلب ہے کہ کیتن انعام دار خود آزاد انتخابات لڑے تھے اور جیتے تھے،بعد میں بی جے پی جوائن کر لی تھی۔
گجرات کانگریس کے انچارج راجیو ساتو نے ٹویٹ کرکے کہا کہ گجرات میں بی جے پی حکومت سے نہ صرف گجرات کی عوام بلکہ اس کے اپنے رکن اسمبلی اس سطح تک ناراض ہیں کہ ساولی سے رکن اسمبلی کیتن انعام دار نے اپنا استعفیٰ دے دیا۔ گڈ گورننس والی بی جے پی حکومت جو اپنے ممبران اسمبلی کی نہیں سن رہی ہے اور ان کے مطالبات کو نظر انداز کر رہی ہے، وہ عوام کی پریشانی کیا حل کرے گی؟

You May Also Like

Notify me when new comments are added.