کاروبار

فکر وخیالات

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

دنیا بھر میں بھارت کی خوبصورت شبیہ کو خراب کررہی ہے مودی اور شاہ کی جوڑی؟

شہریت قانون کے خلاف یوروپی پارلیمنٹ میں تجویز پیش، 24 ممالک کے ارکان نے شہریت قانون کو بتایا’امتیازی‘ اور’تقسیم‘ کرنے والا

Administrators

برسلز،26جنوری(ایجنسی)۔
مودی حکومت کے ذریعہ شہریت ترمیمی قانون لانے کے بعد سے ہی اس کی زبردست ملک وبیرون ملک زبردست مخالفت کی جارہی ہے اور لوگ اسے امتیازی سلوک برتنے والا قانون بتارہے ہیں۔مودی حکومت کے ذریعہ لگائے اس کے قانون کی اب بیرون ممالک کی حکومتوں نے بھی نوٹس لینا شروع کردیا ہے اور اس کے لئے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنارہی ہیں۔اس سلسلے میں یورپی پارلیمنٹ میں سوشلسٹس اور ڈیموکریٹس گروپ نے شہریت (ترمیمی) قانون کو ’امتیازی‘ اور ’خطرناک طور پر تقسیم‘ بتاتے ہوئے ایک تجویز پیش کی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس قانون سے ’دنیا میں سب سے بڑا افراتفری کا ماحول پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس قانون کے تحت یکساں تحفظ کے اصول پر امریکہ نے بھی سوال کھڑے کئے ہیں۔ 24 ممالک کے یورپی پارلیمنٹ کے 154 رکنی سوشلسٹس اور ڈیموکریٹس گروپ کے ارکان کی طرف سے اس ہفتے کے شروع میں یہ تجویز پیش کی ہے جس پر اگلے ہفتے بحث ہونے کی توقع ہے۔
یہ تجویز یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک کے بھارت میں تعینات نمائندوں کی بھارتی حکام کے ساتھ اپنے مکالموں میں نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی سلوک کے معاملے کو شامل کرنے کا اعلان کرتا ہے۔ یہ تجویزاس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت نے اپنی پناہ گزین پالیسی میں مذہبی معیار کو شامل کیا ہے۔ لہٰذا، یورپی یونین کے حکام سے پرامن احتجاج کا حق یقینی بنانے اور امتیازی دفعات منسوخ کرنے کی اپیل کرتا ہے۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے ذریعے بھارتی آئین کے آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ شہریت ترمیمی قانون بھارت کے بین الاقوامی ذمہ داریوں اور معاہدہ کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے جس کے تحت نسل، رنگ، قومی یا نسلی اصول کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کیا جا سکتا ہے۔ تجویز کے مطابق یہ قانون انسانی حقوق اور سیاسی معاہدوں کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.