کاروبار

فکر وخیالات

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

بنگال میں ووٹنگ کے دوران سیکورٹی دستوں کی فائرنگ، پانچ مسلمانوں کو موت

وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے سی آر پی ایف پر لگایا فائرنگ کا الزام، پولس آبزرور کی صفائی، اپنی حفاظت کے پیش نظر مرکزی دستوں نے چلائی گولی،تشدد والے مرکز پر الیکشن کمیشن نے ووٹنگ پر لگائی روک،رپورٹ طلب

ایچ ڈی نیوز،ہفتہ،10 اپریل 2021

کولکاتہ۔ مغربی بنگال میں چوتھے مرحلے کے ووٹنگ کے دوران دو پارٹیوں کے حامیوں کے درمیان ٹکراو کے دوران صورتحال کو سنبھالنے پہنچے سیکورٹی دستوں کی گولیوں سے5  لوگوں کی موت ہوگئی ہے۔اس تصادم میں دیگر چار لوگ زخمی ہوگئے ہیں جن کی حالت تشویش ناک بتائی جارہی ہے۔ ترنمول کانگریس نے دعویٰ کیا ہے کہ کوچ بہار ضلع کے سیتال کوچی اسمبلی حلقے میں مرکزی فورسیس کی فائرنگ میں اس کے5 ورکروں کی موت ہوگئی ہے۔

ترنمول کانگریس نے الیکشن کمیشن سے شکایت کی ہے کہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور لوگوں کے جان کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ذرائع کے مطابق پولنگ بوتھ کے باہر ترنمول کانگریس اور بی جے پی ورکروں کے درمیان جھڑپ کے بعد مرکزی فورسیس نے فائرنگ کی ہے۔ پولس ذرائع نے مرنے والوں کا تعلق کس جماعت سے ہے اس کو ظاہر نہیں کیا ہے۔ 12 بجے تک 38 فیصد پولنگ ہوچکی تھی۔پولیس نے بتایا کہ مرنے والے کی شناخت آنند برما کے طور پر ہوئی ہے۔ مرنے والے کی لاش پٹھان ٹولی علاقے کے بوتھ نمبر 85 کے باہر پڑی ہوئی تھی۔ دونوں پارٹیاں دعویٰ کر رہی ہے کہ برمن کا تعلق اس کی جماعت سے ہے تاہم اس علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس فورس کو تعینات کر دیا گیا ہے۔اس کے بعد ہی بوتھ کے باہر ترنمول کانگریس اور بی جے پی حامیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی۔ پہلے مرکزی فورسیس نے لاٹھی چارج کرکے مجمع کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد فائرنگ کی گئی۔ الیکشن کمیشن نے اس پورے معاملے میں رپورٹ طلب کی ہے۔

دوسری جانب بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے سی آر پی ایف پر گولی چلانے کا الزام عائد کیا ہے۔حالانکہ اسے لے کر سی آر پی ایف نے بیان جاری کیا ہے اور صاف کیا کہ یہ واقعہ جہاں پیش آیا ہے وہاں سی آر پی ایف کی تعیناتی ہی نہیں تھی۔ اس لئے وزیراعلیٰ کے دعوے میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ دراصل ایک انتخابی ریلی کے دوران ممتا نے کہا کہ سی آر پی ایف کے جوانوں نے امت شاہ کے اشارے پر گولی چلاکر چار لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔اس کے بعد سی آر پی ایف نے ایک بیان جاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ سیتل کچی کے جس 126نمبر ووٹنگ مرکز پر تشدد کا واقعہ پیش آیا ہے وہاں سی آر پی ایف کی تعیناتی نہیں تھی۔ ہمارے جوان وہاں الیکشن ڈیوٹی میں نہیں لگے ہوئے ہیں۔مرکزی فورسیس نے دعوی کیا ہے کہ اچانک 300 سے 400 افراد نے انہیں گھیرے میں لے لیا تھا۔ دونوں طرف سے جاری جھڑپ کو روکنے کے لئے مرکزی فورسیس کو خود دفاع میں فائرنگ کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

مرکزی فورسیس نے بتایا کہ ایک کی موقع پر ہی موت ہوگئی تھی جب کہ تین افراد کی موت اسپتال میں ہوئی ہے۔ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے افراد کی شناخت منیرالزمان، حمید میاں، چمن الحق اور نور عالم میاں کے طور پر ہوئی ہے۔ ڈپٹی الیکشن کمشنر سودیپ جین نے چیف انتخابی افسر کو بلایا ہے۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ پولیس کو کن حالات میں گولی چلانی پڑی۔ ترنمول کانگریس نے کہا کہ برمن کا تعلق بھی اسی کی پارٹی سے ہے اور جس وقت بی جے پی کے لوگوں نے حملہ کیا اس وقت مرکزی فورسیس نہیں تھی۔ادھر کمیشن نے فی الحال وہاں پر ووٹنگ پر روک لگادی ہے۔ بھارتی الیکشن کمیشن کے چیف ترجمان سیفالی شرن نے ٹوئٹر پر اس بارے میں جانکاری دی ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کرکے لکھا ہے کہ بنگال کے لئے مقرر کئے گئے خصوصی آبزرور کی شروعاتی روپرٹ کے مطابق سیتل کچی اسمبلی حلقہ کے126نمبرووٹنگ مرکز پر فی الحال ووٹنگ کے عمل پر روک لگادی گئی ہے۔ ریاست کے چیف الیکشن افسر سے شام5:00بجے تک اس بارے میں تفصیلی رپورٹ طلب کی گئی ہے۔

قبل ازیں الیکشن کمیشن کے پولس آبزرور وویک دوبے نے مرکزی دستوں کی فائرنگ کے واقعہ کی کھل کر حمایت کی ہے۔ وویک دوبے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کوچ بہار کے شیتل کچی میں سیاسی جدوجہد کو روکنے کی کوشش کے دوران مرکزی دستہ کے جوانوں پر حملے کوشش کی گئی۔ جوانوں کو مجبور ہوکر اپنی حفاظت میں گولیاں چلانی پڑیں۔خصوصی پولس آبزرور نہیں کہا کہ شیتل کچی میں ایک بوتھ کو قریب تین چار سو لوگوں نے گھیر لیا تھا۔ مرکزی دستوں کو وہاں اپنی حفاظت کے لئے گولی چلانی پڑی۔

دوسری جانب مغر بی بنگال پولس کے اے ڈی جی جگموہن نے بھی صفائی دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گاوں والوں نے سینٹرل فورس کی ٹیم پر جان لیوا حملہ کیا تھا جس کی وجہ سے سیکورٹی دستوں نے مجبوراً فائرنگ کی۔جگموہن نے بتایس کہ صبح کے وقت ووٹ کرنے کے لئے ایک نوجوان آیا تھا، جسے گولی مارکر موت کے گھاٹ اتار دیاگیا تھا۔ اس کی وجہ سے پورے علاقہ میں ماحول کشیدہ ہوگیا تھا اور پٹرولنگ کے لئے سی آئی ایس ایف کے جوانوں کو لگایا گیا تھا۔ گاوں میں پہنچی اس ٹیم کو مقامی لوگوں نے گھیر لیا تھا اور سی آئی ایس ایف کی ٹیم پر جان لیوا حملے کئے جارہے تھے۔ اس کی وجہ سے اپنی حفاظت میں مرکزی دستہ کے جوانوں کو فائرنگ کرنی پڑی جس میں چار لوگوں کی جان چلی گئی۔اس واقعہ کو لے کر سی آئی ایس ایف نے بھی بیان جاری کیا ہے۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.