کاروبار

فکر وخیالات

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

شہریت قانون کے خلاف ہورہے مظاہرے سے بے خوف بی جے پی کو ستارہا ہے گرتی معیشت کے خلاف کہیں سڑکوں پر نہ اترآ ئیں لوگ

BJP-CAA- Economy

Administrators

ہماری دنیا بیورو
نئی دہلی،31جنوری:دہلی اسمبلی انتخابات کو لے کر کی نظریں سی اے اے-این پی آر-این آرسی کی مخالفت پرٹکی ہوئی ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے لے کر درجنوں رہنما اور وزیر جو انتخابی مہم میں اترے ہوئے ہیں، اپنی تمام ریلیوں میں شاہین باغ کا ذکر کر رہے ہیں۔ سی اے اے اور این آرسی کے خلاف مظاہرہ کر رہے لوگوں پر نشانہ سادھ رہے ہیں۔ مرکزی حکومت اور بی جے پی شاہین باغ پرپوری طرحبے فکر نظر آ رہی ہے لیکن حقیقی تشویش خستہ حال معیشت ہے۔ بی جے پی کو فکر ستا رہی ہے کہ معیشت کو لے کر لوگ کہیں سڑکوں پر نہ اتر آئیں۔ حکومت اور پارٹی کے کئی ذمہ دار رہنما اور افسران ذاتی طور پر اس اقتصادی بحران کو حقیقی فکر مانتے ہیں۔
ایک سینئر سرکاری افسر نے کہا کہ اس فکر کو بجٹ بنانے والی ٹیم کے سامنے رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ اگر ترقی نہیں ہوئی تو لوگ سڑکوں پر آ سکتے ہیں۔ فی الحال کچھ جگہوں پر ایسا دیکھاگیا ہے، جو آگے دوسری جگہوں پر بھی پھیل سکتا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ایک کابینہ وزیر نے چند ہفتوں پہلے کابینہ کے ایک اجلاس کے دوران کیمپس میں احتجاج کے خطرات کو بتایا تھا اور حکومت کی توجہ اس کی طرف مبذول کرائی تھی۔بی جے پی کے ایک سینئر رہنما نے کہا کہ سی اے اے -این پی آر-این آرسی کی مخالفت سے ہمارے بیس ووٹ میں ایک کی بھی کمی نہیں آئی ہے، اور نہ ہی یہ احتجاج مخالفین کو ایک بھی ووٹ کا فائدہ دلانے والا ہے۔ لہٰذا ہم ان تنازعات سے سیاسی طور پر پریشان نہیں ہیں، تشویش کا حقیقی مسئلہ معیشت کا ہے۔بی جے پی کے اس رہنما کے بیان کی ایک اور لیڈر نے بھی حمایت کی۔ انہوں نے کہاکہ بھائی صاحب فکر کی بات صرف معیشت ہے۔ باقی سب قابو میں کیا جاسکتا ہے۔تاہم بی جے پی لیڈروں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ بجٹ کچھ اعتماد پیدا کر سکتا ہے اور موجودہ بحران کو روک سکتا ہے۔معیشت سے متعلق وزارت سنبھال رہے ایک وزیر دعویٰ کرتے ہیں کہ مجھے لگتا ہے کہ معیشت نیچے سے اوپر اٹھ رہی ہے۔ نئے سیکٹر پر مبنی کچھ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہم ایک ریکوری کے راستے پر بڑھ چلے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس ملک کے اکنامک فنڈامینٹل ساو¿نڈ اکی طرف اشارہ کرتے ہوئے کچھ زیادہ بتانے سے انکار کر دیا، لیکن پارٹی کے اندر اس غیر یقینی صورتحال بنی ہوئی ہے کہ کیا بجٹ ایک اچھا ذریعہ ہے جس سے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
بی جے پی لیڈر نے کہا کہ تاجر طبقات کے ساتھ میرا تھوڑا بہت لگاو¿ ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ تاجر سرمایہ کاری کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ وہ اس بات سے ڈرے ہوئے ہیں کہ افسر آئیں گے اور ان سے بہت زیادہ پوچھ گچھ کریں گے۔ایک سرکاری اہلکار نے بھی کچھ اسی طرح کی بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ کالے دھن کا پیچھا کرنے کے نام پر ڈیٹکسی فکیشنکی قواعد طویل عرصے سے جاری ہے۔ شیل کمپنیوں پر کافی کارروائی کی گئی ہے، یہ بھروسہ دلانے کی بھی ضرورت ہے کہ بہت کچھ کیا جا چکا ہے۔بی جے پی کے ایک اوررہنما نے کہا کہ تاجر طبقہ کو ایک یقین دہانی کی ضرورت ہے کہ انکم ٹیکس افسر سرمایہ کاری کو دوبارہ شروع کرنے پر انہیں پریشان نہیں کریںگے۔ نوٹ بندی اور کالے دھن کے خلاف کارروائی کے بعد انہیں اس یقین دہانی کی ضرورت ہے،اس کے لئے ہی ہمیں مینڈیٹ ملا تھا۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.