کاروبار

فکر وخیالات

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

آزمائش میں ڈال کر اللہ تعالی صبر کاامتحان لیتاہے

Administrators

!مکرمی

دنیا میں پیش آنے والی پریشانیوں اور مشکلات سے گھبرانے کی بجائے ان کاڈٹ کر مقابلہ کرناچاہئے کیونکہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے تاکہ وہ اپنے بند کے صبر کا امتحان لے۔ انسان کو ایسی پریشانیو ں کو بطور رحمت لینا چاہئے تاکہ وہ آخرت کی زندگی میں کامیاب ہو۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں کہ ’ اللہ تعالی بندے کو ایسی آزمائش میں نہیں ڈالتا جسے وہ جھیل نہ سکے‘۔ اللہ تعالی جن آزمائشوں میں ڈال کر اپنے بندوں کاامتحان لیتا ہے ان میں خوف، بھوک، پیاس، مال وزر میں تخفیف، غربت اوربے اولاد ہونا وغیرہ شامل ہیں۔ اللہ تعالی کی طرف سے ان لوگوں کیلئے خوش خبری ہے جو لوگ ایسی آزمائشوں میں کامیاب اور کامران ہوتے اور صبر کاپیمانہ لبریز نہیں ہونے دیتے۔ سچائی یہ ہے کہ ہم محض ایک انسان ہیں جبکہ آزمائش کے معاملات میں ہمارے انبیاءاچھوتے نہیں ہیں، انہیں بھی اللہ تعالی کی آزمائشوں سے گزرنا پڑاہے، جن میںجان کا خطرہ، کھانے پینے اور دیگر اشیاءکی تخفیف وغیرہ شامل ہیں۔اسلام میں صبر کی بڑی اہمیت آئی ہے۔ شریعت ہمیں حکم دیتی ہے کہ زندگی میں ہمیں جو پریشانیاں آئیں ان پر ہم کھرے اتریں،مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں اور ان کی شکایت سے اجتناب کریں۔

ہمیں آزمائشوں پر صبر کرنے کی بجائے اس کو دوسروں سے شکایت نہیں کرنی چاہئے کیونکہ یہی طریقہ ہے زندگی میں اور آخرت میں بڑی کامیابی کا۔پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو پوری دنیا اور خاص طو رپر مسلمانوں کیلئے رول ماڈل ہیں، نے اللہ تعالی کی طرف سے پریشانیوں اور آزمائشوں کی شکایت کبھی نہیں کی اور ہمیشہ صابروشاکررہے نیز رواداری کا مظاہرہ پیش کیا۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اسی طرح صبر کرنے کا حکم دیا ہے کہ اگر کسی پر کوئی آزمائش آتی ہے تو اس کو اس پرشکایت کی بجائے صبر کرنا چاہئے اور جہاں تک ممکن ہوسکے تمام پریشانیوں کو اپنے ہاتھوں سے حل کرنے کی کوش کرتے ہوئے لوگوں کےساتھ ایسی رواداری کا مظاہرہ کرے جسے دنیا والے مثالی کردار کے طور پر پیش کریں۔

 عبداللہ

 بلی ماران ، دہلی

You May Also Like

Notify me when new comments are added.