کاروبار

فکر وخیالات

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

ایئر انڈیا میں 100 فیصد حصہ داری فروخت کررہی ہے مودی حکومت،بی جے پی ایم پی کی بغاوت،سپریم کورٹ جانے کی دھمکی

Administrators

ہماری دنیا بیورو
نئی دہلی،27جنوری:مرکزی حکومت نے ایئر انڈیا کے 100 فیصد حصص کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کو لے کر بنیادی جارنکاری کو بھی شیئر کی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری دستاویزات کے مطابق’اسٹریٹجک سرمایہ کاری‘کے تحت ایئر انڈیا، ایئر انڈیا ایکسپریس کے بھی 100 فیصد اور اے آئی ایس اے ٹی ایس کے 50 فیصد ی شیئر فروخت کی جائے گی۔ اس کے علاوہ انتظامی کنٹرول کا حق بھی کامیاب بولی لگانے والے کے ہاتھ میں چلا جائے گا۔ حکومت نے اس سرمایہ کاری کیلئے بولی کے عمل کا استعمال کرے گی اور اس میں شامل ہونے کے لئے 17 مارچ کا وقت تک مقررکیا گیا ہے۔غورطلب ہے کہ حال ہی میں ایئر انڈیا (ایئرانڈیا) کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر (سی ایم ڈی) اشونی لوہانی نے کہا تھا کہ کمپنی کے بندہونے کو لے کر افواہیں پوری طرح سے بے بنیاد ہیں۔ سرکاری ایوی ایشن کمپنی ایئر انڈیا پرواز بھرتی رہے گی اوراس میںتوسیع بھی ہوتی رہے گی۔ حکومت نے ایئر انڈیا کو پرائیویٹ ہاتھوں میں دینے کا فیصلہ ہوا ہے۔ اشونی لوہانی نے ٹویٹ کیا کہ ایئر انڈیا کے بند یا آپریشنل روکے جانے کی افواہیں بے بنیاد ہیں۔ ایئر انڈیا پرواز بھرتی رہے گی اوراس میں توسیع بھی کرے گی۔ مسافر ہوں یا کارپوریٹ یا ایجنٹ، کسی کو بھی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایئر انڈیا اب بھی ملک کی سب سے بڑی ایوی ایشن کمپنی ہے۔
دوسری جانب مودی حکومت کی اس تجویز کے خلاف بی جے پی میں ہی بغاوت کی آواز بلند ہوگئی ہے۔ بی جے پی ایم پی سبرامنیم سوامی اس حکومت کے اس فیصلے کے خلاف کھڑے ہوگئے ہیں۔بی جے پی کے ممبرپارلیمنٹ سبرامنیم سوامی نے ٹویٹ کے ذریعے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سودا مکمل طور پر ملک مخالف ہے اور مجھے کورٹ جانے کے لئے مجبور ہونا پڑے گا۔ ہم خاندان کی قیمتی چیز کو فروخت نہیں کرسکتے۔بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ سبرامنیم سوامی پہلے بھی ایئرانڈیا کو فروخت کرنے کی حکومت کے منصوبہ پر ناراضگی کا اظہارکر چکے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ مرکز کے اس فیصلے کو لے کر سیاسی اور قانونی رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔سبرامنیم سوامی ایئر انڈیا کو فروخت کرنے کو لے کر بولی کے عمل کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کے خلاف پہلے بھی خبردار دے چکے ہیں۔ انہوں نے یہ کہتے ہوئے بھی اس کی تنقید کی کہ اس معاملے پر فی الحال پارلیمانی پینل میںگفتگوکی جا رہی ہے۔انہوں نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ اب یہ (ایوینویش) مشاورتی کمیٹی کے سامنے ہے اور میں اس کا ایک رکن ہوں۔ مجھے ایک نوٹ دینے کے لئے کہا گیا ہے، جس پر اگلے اجلاس میں بحث کی جائے گی۔ وہ اس کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے۔انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو میں عدالت جاو¿ں گا، وہ یہ بھی جانتے ہیں۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.