کاروبار

فکر وخیالات

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

اڈانی گروپ کو45000 کروڑ روپے کا آبدوز بنانے کا ٹھیکہ دینے پر بحریہ چراغ پا،وزارت دفاع کی تجویز کو ٹھکرایا

Administrators

ہماری دنیا بیورو

نئی دہلی،17جنوری۔اڈانی گروپ کو آبدوز ٹھیکہ دینے کے معاملے پر وزارت دفاع اور بحریہ کے آمنے سامنے ہیں۔ 45000 کروڑ روپے کے اس 75-آئی پروجیکٹ کے لئے اڈانی ڈیفنس اور ہندوستان شپ یارڈ لمیٹڈ (ایچ ایس ایل) جوائنٹ وینچر کے تحت درخواست دی تھی جسے بحری فوج ٹھکرا چکی ہے۔ ایک طرف بحریہ اس کی مخالفت میں ہے تو وہیں دوسری طرف وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس طرح کے جوائنٹ وینچرز کو موقع دیا جانا چاہئے۔

وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ پروجیکٹ ’میک ان انڈیا‘ کے تحت سب سے بڑے ڈیفنس پروجیکٹ میں سے ہے۔انگریزی روزنامہ اکنامک ٹائمز میں شائع ایک خبر کے مطابق ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ’میک ان انڈیا‘ کے تحت سب سے بڑے ڈیفنس پروجیکٹ میں کے لئے پانچ درخواست سامنے آئے تھے جس سے نیوی کی’امپاورڈ کمیٹی‘ نے دو کومنتخب کیا ہے۔ اس میں مجھ گاو ¿ںڈاک شپ بلڈرس لمیٹڈ اور لارسن اینڈ ٹوبرو شامل ہیں۔ ان دونوں کو ہی سبمرین بنانے میں اچھا تجربہ ہے۔امپاورڈ کمیٹی‘ کی تجویز کو درکنار کرتے ہوئے حکومت اڈانی جے وی کو بھی 75-آئی پروجیکٹ کے سودے کے لئے منتخب کر رہی ہے۔دونوں کے درمیان تنازعہ کی یہی وجہ ہے۔

ڈپارٹمنٹ آف ڈیفنس پروڈکشن نے تجویز دی ہے کہ ایچ ایس ایل-اڈانی جوائنٹ وینچر کو بھی شامل کیا جانا چاہئے۔ بتا دیں کہ ہندوستان شپ یارڈ لمیٹڈ ڈپارٹمنٹ آف ڈیفنس پروڈکشن کے تحت ہے۔ وہیں حکومت کے اس پروجیکٹ کے لئے اڈانی جے وی کو منتخب کرنے پر کانگریس جم کرحملہ آور ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ مودی حکومت ملک کی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے۔کانگریس کے قومی ترجمان رندیپ سنگھ سرجےوالا نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اپنے دوستوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے پچھلے دروازے سے انٹری دلوا رہے ہیں۔ ’امپاورڈ کمیٹی‘ نے دو ایپلی کیشنز کو قبول کیا لیکن مودی حکومت اڈانی جے وی کوہی اس کے لئے منتخب کر رہی ہے۔ اڈانی ڈیفنس کو آبدوز بنانے کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔

You May Also Like

Notify me when new comments are added.